بھٹکل 4/مئی (ایس او نیوز) جیسے جیسے ریاستی اسمبلی انتخابات قریب آتے جارہے ہیں، سوشیل میڈیا پر ایک سے بڑھ کر ایک پیغامات وائرل ہورہے ہیں جس میں کچھ پیغامات جھوٹے اور بے بنیاد بھی ہیں۔ اس تعلق سے بھٹکل رکن اسمبلی اور کانگریسی اُمیدوار منکال وئیدیا نے اپنے خلاف غلط پیغام وائرل کرکے ووٹروں کو اپنے خلاف استعمال کرنے کے تعلق سے مرڈیشور مضافاتی پولس تھانہ میں دو الگ الگ معاملات درج کئے ہیں اور اس طرح ان کے خلاف عوام میں غلط فہمی پیدا کرنے اور ووٹروں کو اُن سے دور کرنے کی کوشش کرنے پر سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خبر ملی ہے کہ پولس اس تعلق سے چار لوگوں کے خلاف کیس درج کئے ہیں جن کی شناخت بھٹکل تعلقہ کے سنتوش نائک، جگدیش نائک، اُمیش موگیر اور ماہی نائک کی حیثیت سے کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز جب منکال وئیدیا بھٹکل کے قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے دفتر میں تشریف لے گئے تھے، اُس تعلق سے وہاٹس ایپ پر ایک مسیج کافی تیزی کے ساتھ وائرل ہورہا تھا جس میں غلط طریقہ سے منکال وئیدیا کی شبیہ کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔ مسیج میں لکھا گیا تھا کہ منکال وئیدیا نے تنظیم دفتر پہنچ کر مسلمانوں سے اس بات کا معاہدہ کیا ہے کہ جیت درج کرنے پر وہ بھٹکل میں ایک ہائی ٹیک قصائی خانہ تعمیر کرکے دیں گے۔ منکال وئیدیا نے اس بات کو بالکل غلط اور بے بنیاد بتایا ہے اور کہا ہے کہ یہ سب اُس کی بہترین شبیہ کو بگاڑنے کے لئے کیا گیا ہے۔
اسی طرح ایک دوسرے مسیج میں ایک کنڑا نیوز چینل کی ایک کلپ کا فوٹو لے کر اُس پر منکال وئیدیا کا نام لکھ کر بھی وائرل کیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ کنڑا نیوز چینل میں بیدر کے ایک اُمیدوار کے تعلق سے ایک مسیج کنڑا میں لکھا گیا تھا کہ " مجھے جیت درج کرنے کےلئے صرف مسلمانوں کے ووٹ کافی ہیں"۔ اسی طرح ایک اور فوٹو میں کنڑا میں لکھا گیا تھا کہ " اگر میں ہار گیا تو یہ مسلم سماج کی بے عزتی ہوگی" ۔ کنڑا نیوز چینل سے حاصل کردہ اس فوٹو کو کمپوٹر پر ایڈیٹ کرتے ہوئے اُس کے نیچے "منکال وئیدیا" لکھ دیا گیا تھا اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ منکال وئیدیا نے اس طرح کا بیان دیا ہو۔ اس طرح کے غلط اور بے بنیاد پیغامات وہاٹس ایپ پر وائرل ہونے کی وجہ سے عام ووٹروں کے گمراہ ہونے کا خدشہ تھا اور عوام میں بے چینی پائی جارہی تھی۔ مگر منکال وئیدیا نے مرڈیشور پولس تھانہ پہنچ کر بروقت کاروائی کرتے ہوئے سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے والے ان پیغامات کے خلاف دو الگ الگ مقدمات درج کرتے ہوئے پولس سے درخواست کی ہے کہ جن لوگوں نے بھی اس طرح کے جھوٹے مسیجس پھیلا کر ان کے امیج کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے، اُن کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ۔
پولس نے اس تعلق سے کیس درج کرلیا ہے اور چھان بین جاری ہے۔